تصویر کا دوسرا رخ

ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ نسخہ
ایک جلی ہوئی لاش کے ساتھ پڑی بالٹی دیکھ کر اک لمحے کے لئے دکھ ہوا کہ انسانی جان ضائع ہو گئی۔ پھر سوچا ایسا کیوں ہوا، یہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا تو دل میں خیال آیا ک یہ جلا ہوا انسان تو کچھ بتا نہیں سکتا تو وہاں کھڑے کچھ سیانے لوگوں سے پوچھا جائے۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا غربت لے ڈوبی اتنی جانیں۔ اس سب کی ذمہ داری حکومت پر ہے، لیکن بات سمجھ میں نہ آئی تو مفکرین کی طرف دیکھا تو وہ بھی یہی کہتے نظر آئے تو اسی کو سچ مان کر آنکھوں میں آنسو لئے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا۔

واپس مڑا ہی تھا کہ بالٹی چیخ اٹھی کہ میری بھی سنو، میں تو اس جلنے والے کے ہاتھ میں تھی۔ میری سنو گے یا انہی کی طرح غربت کو ذمہ دار بنا کر چلے جاؤ گے۔ یہ سن کر قدم رک گئے، دل کی دھڑکن تھم سی گئی کہ اب یہ بالٹی ہم انسانوں کو حقیقت سمجھائے گی۔ بالٹی نے بولنا شروع کر دیا۔۔۔ اے پاکستانی بتا۔

کیا انہوں نے اس تیل کے ساتھ روٹی کھانی تھی۔
کیا اس تیل سی انکو عید کے کپڑے ملنے تھے ۔
کیا یہ تیل ان پہ چھت بننا تھا۔
کیا یہ جو گاڑیا ں نظر آ رہی ہیں، ان کے گھر میں چولہے نہ جلتے تھے۔
کیا جو موٹر سائیکل خرید سکتا ہے، وہ تیل نہیں ڈلوا سکتا، وہ اتنا غریب ہے۔
کیا تمہارے حکمران بھی غریب ہیں جو ہر چیز کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو ذمہ دار غربت کیسے۔ یہ لاشیں تیری قوم کی سوچ کو ننگا کر رہی ہیں۔ ان کی چیخیں سنو، یہ کہہ رہی ہیں کہ بحثیت قوم ہماری تربیت میں کمی تھی۔ انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ کسی کی گری ہوئی چیز پہ تمہارا کوئی حق نہیں تم تو مسلمان ہو اور مسلمان تو گمشدہ چیز ملنے پر اس کے مالک تک پہنچاتا ہے بجائے کہ اس کو لوٹے۔

شاید میرے لئے حادثے سے زیادہ حادثے کی وجہ تکلیف دہ ہے۔ شاید مجھے اس بات پہ اتنا رونا نہیں آیا کہ کتنے انسان مر گئے، جتنا بحثیت قوم اپنی سوچ پہ آ رہا ہے۔ یہ حادثے ہوتے رہیں گے انسانی جانیں ضائع ہو تی رہیں گی، جب تک ہم بحثیت قوم اپنی تربیت نہیں کر لیتے ۔

شاید بہت سارے لوگ مجھے اس تحریر پر گالیاں دیں گے کہ قوم صدمے میں ہے اور میں کیا کہہ رہا ہوں، لیکن یہی حقیقت ہے جس کو جٹھلایا نہیں جا سکتا اور حقیقت یہی ہے کہ یہ لوگ وہ مال لوٹنے میں مصروف تھے، جس پہ ان کا کوئی حق نہ تھا۔

100% LikesVS
0% Dislikes

About HumPK

Check Also

جکارتہ پی ایس بی بی کے دوران کاروباری افراد کے قواعد کی تعمیل کرنی ہوگی

DKI جکارتہ کی صوبائی حکومت نے بالآخر پیر ، 14 ستمبر 2020 کو بڑے پیمانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *