حسب توفیق کرپشن

سکول میں ٹیچر نے بچوں سے کہا کہ کل کلاس کا گروپ فوٹو ہو گا ، اس لئے سب بچے پچاس پچاس روپے لے کر آئیں اور اچھے سے کپڑے پہن کر انا ہے۔ چلو اب چھٹی ۔

سکول سے باہر آ کر ، گاما ، اچھو سے کہتا ہے ۔ یار یہ سب سکول ٹیچروں کی چالاکی ہے ۔ ایک فوٹو کے باہر بیس روپے لگتے ہیں ،اور یہ ہم سے پچاس پچاس منگوا رہے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ایک بچے سے کوئی تیس تیس روپے بچائیں گے ۔ یعنی کہ ایک کلاس سے کوئی اٹھارہ سو اور پورے سکول سے کوئی دس ہزار روپے !!! انہوں نے کھلی لوٹ مچا کر رکھ دی ہے ۔

اچھو نے لقمہ دیا ، ہاں ہاں یہ سارا کمیشن کا چکر ہے ۔

گاما ٖغصے سے کہتا ہے اور بعد میں یہ سٹاف روم میں بیٹھ کر سموسےکھائیں گے ، اور ہمیں ٹھینگا ملے گا۔ اچھو گامے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہتا ہے چل چھڈ یار ، گھر چل کر ماں سے پیسے مانگتے ہیں ۔

خیر گھر جا کر گامے اور اچھو نے اپنی اپنی ماں سے کہا کل سکول میں گروپ فوٹو ہے ! ماسٹر نے سو سو روپے لانے کو کہا ہے !!!

گامے کی ماں ، اسی دن فون کر کے اپنے خاوند کو بتاتی ہے ۔ مہنگائی بہت ہو گئی ہے ۔ ماسٹر نے گروپ فوٹو کے دو دو سو روپے منگوائے ہیں ۔ تمہاری کمائی میں جس تنگی ترشی سے میں گزارا کر رہی ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں یا میرا رب..

ہر کوئی حسب توفیق کرپشن کر رہا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں