سوچ کی اصلاح

ایک نوجوان نوبیاہتا جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آئے۔اُس جوڑے کی بیوی کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک پر تنقیدی نظر رکھتی تھی۔ اُن کے ڈائننگ ہال سے سامنےوالوں کا گھر صاف نظر آتا تھا…

ایک دن جب وہ دونوں ناشتہ کی میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے تو بیوی نے دیکھا کہ سامنے والوں نے کپڑے دھو کر باہربالکونی میں پھیلائے ہوئے ہیں۔ ’’یہ لوگ کتنے خراب اور گندے کپڑے دھوتے ہیں‘، بیوی اپنے شوہر سے بولی’ ذرا صاف کپڑے نہیں دُھلے۔ اِن کی خواتین کو کپڑے دھونے آتے ہی نہیں ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنا صابن تبدیل کرلیں۔یا کم از کم کسی سے سیکھ ہی لیں کہ کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں‘‘۔ شوہر نے نظریں اُٹھا کر باہر کی طرف دیکھا لیکن خاموش رہا۔ ہر بار جب بھی اُن کے پڑوسی اپنے کپڑے دھو کر پھیلاتے، اُس خاتون کے اُن کے کپڑوں اور دُھلائی کے بارے میں یہی تاثرات ہوتے۔وہ ہمیشہ ہی اپنے شوہر کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی کہ آج پھر ان لوگوں نے کپڑے اچھے نہیں دھوئے، دل چاہتا ہے خود جا کر ان کو بتا دوں کہ کس طرح یہ اپنے کپڑوں کی دھلائی بہتر کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

الغرض وہ گھر اور اُن کے کپڑوں کی دھلائی ہمیشہ ہی اُس خاتون کی تنقید کا نشانہ بنتے رہتے۔ تقریباََ ایک مہینہ بعد وہ عورت اپنے پڑوسیوں کے صاف سُتھرے دُھلے کپڑے دیکھ کر حیران رہ گئی اور اپنے شوہر سے بولی:

دیکھا! “بالآخر انہوں نے سیکھ ہی لیا کہ کپڑے کیسے دھوئے جاتے ہیں۔” شکر ہے کہ آج ان کے کپڑے صاف ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ آخر یہ عقل ان کو کس نے دی؟”شاید انہوں نے اپنی کام والی تبدیل کی ہے یا پھر اپنا صابن بدل دیا ہے اوراپنے شوہر کے جواب کا انتظار کرنے کے لئے چپ ہو گئی۔”

شوہر نے اپنی بیوی کی طرف غور سے دیکھا اور بولا: ’’آج صبح میں جلدی اُٹھ گیا تھا اور میں نے اپنے ڈائننگ ہال کی وہ کھڑکی صاف کی ہے جہاں سے تم سامنے والوں کو دیکھتی تھیں‘‘۔

بالکل ایسا ہی ہماری روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہماری اپنی کھڑکی صاف نہیں ہوتی اور ہم دوسروں کو مورودِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر ہوتا ہے لیکن ہم نہ اُس کو مانتے ہیں اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں۔ کسی کو چیک کرنے کا یہ انتہائی بہترین طریقہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنی کھڑکی کو دیکھیں، کیا وہ صاف ہے ؟ کیونکہ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تواس بات کا انحصار اُس کھڑکی یا ذریعے کی شفافیت پر ہوتا ہے جس میں سے ہم کسی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کسی پر نکتہ چینی اور تنقید کرنے سے پہلے اپنا جائزہ اچھی طرح لے لینا چاہئے۔ اپنے خیالات اور احساسات کوصاف اور شفاف رکھیں۔ جب اچھی چیز کو دیکھا جا سکتا ہے تو بُری چیز کا کیوں مشاہدہ کیا جائے؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں