قائد کا پاکستان۔۔۔

آج پاکستان کو آزاد ہوئے 65 سال سے زائد ہو گئے، لیکن آج تک اس ملک میں بسنے والوں کی سوچ آزاد نہیں ہو سکی۔ ہم آج بھی اپنی سوچ کے غلام ہیں۔ ہم نے اس آزاد ملک کی قدر کرنے کی بجائے اسے لوٹنے پر زور دیا ہوا ہے۔ جس کا جتنا بس چلتا ہے، اس ملک کو کھوکلا کرتا چلا جا رہا ہے۔ کچھ یہاں ڈھیر لگاتے جا رہے ہیں اور کچھ باہر لے جاتے جا رہے ہیں۔

باقی دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ بلکہ اب تو وہ لوگ بھی ہمارے اس کام میں ہاتھ بٹانا شروع ہو گئے ہیں، تاکہ کام کی رفتار تیز ہو اور وہ وقت جلد آئے جب اس ملک کی دیواریں اتنی کھوکھلی ہو جائیں کہ اس کے بعد کسی بھی وقت چھت ہم پر آ پڑے۔

میں کوئی منفی سوچ کے پیش نظر ایسی باتیں نہیں کر رہا۔ یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد ہمیں ملا تھا۔ لوگوں نے اپنی جانیں دی ہیں اس کی خاطر۔ مگر آج ہم اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کو بھیڑیوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ آج ہم سے اس آزاد پاکستان کا تحفظ نہیں ہو پا رہا، جبکہ اگر اس وقت جب پاکستان بن رہا تھا، ہم اس وقت ہوتے تو نہ جانے کیا کرتے۔

میں یہ بات بھی مانتا ہوں کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگوں کے برے اعمال کا ذمہ دار سب کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لیکن میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ پھر کہاں ہیں وہ اچھے لوگ، کیوں نظر نہیں آتے آج کے دور میں۔ تو جواب ملتا ہے کہ کہیں نہیں گئے وہ لوگ، یہیں ہیں ہمارے اندر۔ بس اس کو جگانے کی ضرورت ہے۔

ابھی وقت ہے، کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں