پنجاب کا نیا بجٹ

کورونا کی تباہ کاریوں، ٹڈی دَل کے حملوں اور دوسرے مشکل معاشی حالات میں مالی سال 2020-
21کے لئے پیر کو پنجاب کا نہ صرف 22کھرب 40ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا گیا ہے بلکہ اس میں صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی 3کھرب 37ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گذشتہ سال کے نظرثانی شدہ بجٹ کے مقابلے میں 9.42فیصد زیادہ ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں نیا صوبائی بجٹ وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے اپوزیشن کے شدید ہنگامے،
شور شرابے، چینی چور، آٹا چور اور عوام دشمن بجٹ نامنظور کے نعروں کے درمیان اس دعوے کے ساتھ پیش کیا کہ حکومت نے عوام سے بجٹ تجاویز اور سفارشات طلب کی تھیں جن کی روشنی میں یہ بجٹ تیار کیا گیا ہے اور یہ عوام کی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔ اپوزیشن نے نہ صرف حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی بلکہ
نیا بجٹ مسترد کرنے کی علامت کے طور پر ایوان سے واک آئوٹ بھی کیا۔ بجٹ میں چھوٹے کاروباری حضرات کے لئے ٹیکسوں میں رعایت کی صورت میں 56ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔

کورونا کے بدترین اثرات کم کرنےکے لئے 68.3ارب روپے مختص کئے گئے اور اس حوالے سے ایک ہنگامی پروگرم کا اعلان کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاقی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور وزارت خزانہ کی جانب سے یہ تاویل پیش کی گئی کہ موجودہ معاشی صورتحال میں یہ اضافہ ممکن نہیں ہے

حالانکہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بہت سے وزراء نے اضافے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ شعبہ تعلیم کے لئے 391بلین اور صحت کی سکیموں کے لئے 284بلین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی جو تعلیم اور صحت کے لئے حکومت کی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔

ہیلتھ انشورنس، ڈاکٹروں اور اسپتالوں کو ٹیکس سے استثنادیا گیاخدمات کے 20 سے زائد شعبوں میں ٹیکس 16سے کم کر کے گیارہ فیصد کر دیا گیا جبکہ بعض شعبوں میں ٹیکس بڑھایا بھی گیا پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی اقساط میںادا کرنے کی سہولت دینےفیصلہ کیا گیا
اور 30ستمبر تک مکمل ادائیگی پر ملنے والی رعایت دوگنا کر دی گئی، واٹر سپلائی پنجاب کے دیہی علاقوں کے علاوہ چھوٹے بڑے شہروں کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، اس شعبے میں نظرثانی شدہ بجٹ کی نسبت ایک ارب روپے کی کمی کی گئی ہے

جو محل نظر ہے۔ واٹر سپلائی پر حکومت کو زیادہ توجہ دینی چاہئے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور اس کا مطلب ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانے کے لئے سنجیدہ ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی توقع ظاہر کی گئی ہے جس سے معیشت کو تقویت ملے گی بجٹ پر ایک پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ صوبائی حکومت نے نئے ٹیکس لگانے کی بجائے پرانے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ردو بدل پر توجہ دی ہے اور مختلف کاروباری طبقوں کو مراعات اور چھوٹ دے کر معاشی حالات سنبھانے کی کوشش کی ہے نئے بجٹ میں حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات پر قابو پانے کو ترجیح دی ہے وزیراعظم عمران خان کا بھی یہی مشن ہے صوبائی بجٹ انہی کے وژن کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے غیرمعمولی حالات میں متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، اپوزیشن کا تو کام ہی شور مچانا ہے۔ وزیراعلیٰ کا موقف ہو سکتا ہے درست ہو مگر بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تجاویز پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور عوام کے مفاد میں اس کے نقطہ نظر کو بھی پوری اہمیت دینی چاہئے تا کہ بجٹ صحیح معنوں میں عوام کے لئے فائدہ مند بن سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

About HumPK

Check Also

پاکستانیوں کے چند جدید عقائد

پاکستانیوں کے چند جدید عقائد: 1۔ برقی آلات بند کر کے دوبارہ چلانے سے ٹھیک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *