کب جاگے کا ضمیر۔۔۔؟

عمران خان کی زندگی میں طوفان کیا آیا، میڈیا اور سیاستدان 26 اکتوبر کے ہولناک زلزلے کو بھول ہی گئے۔ سینکڑوں خاندانوں پر قیاقت ٹوٹے ابھی 4 ہی دن گزرے تھے، جس میں کہیں کئی ننھے پھول ماؤں سے بچھڑے، تو کہیں غریبوں کے آشیانے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ بے رحم موسم کی سختیوں سے لڑتے، کھلے آسمان تلے بیٹھے معصوم لوگ منتظر ہیں کہ کوئی ان کیلئے بھی آواز اٹھانے والا ہو۔

مگر بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ بڑے بڑے محلوں کے گرم گرم کمروں میں منرل واٹر پی پی کر سوات اور مالاکنڈ کے بے گھر افراد کی مدد کی باتیں کرنے والے زبانی جمع خرچ کے بعد ہائی ٹی کے مزے لیتے ہوئے چلتے بنے۔

بزرگ، بچے اور خواتین سرد موسم میں ٹھٹھرنے پر مجبور ہیں۔ پہننے کو گرم کپڑے ہیں، نہ سر پہ چھت۔ کھانے کو روٹی ہے، نہ بیماری کیلئے دوا۔ سرکار کو آخر کب احساس ہو گا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔

قائد کے پاکستان میں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر جان دینے والے چلا چلا کر سوال کرتے ہیں کہ یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھی کیا،کہ ان پر دیس کی جنتا سسک سسک کر مرے؟ زمین نے اسی کارن اناج اگلا تھا کہ نسل آدم و حوا بلک بلک کر مرے؟ ملیّں اسی لئے ریشم کے ڈھیر بناتی ہیں کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں؟ مالی نے اسی لئے چمن کو خون سے سینچا تھا کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں